اعتبار

جاؤ کے اب ہمیں انتظار نہیں بہار کا
نہ ہی کوئی مرہم -سبب رہا دل – بے قرار کا

وہ جوتشی دھوکے باز کسی اور ہی دیار کا
کے جس کی بات کا ہمیں برا اعتبار تھا

اور نہ کہو کے میں خود کا ہی قصور-وار تھا
ورنہ یہ جو اک بھرم کے ہوں خود کا ہمدرد ; وہ بھی بیکار تھا

ویسے کسی کے کہنے میں کہاں آتا یہ دل تھا
بڑے ہی غلط وقت پر رکھا بھرم اس یار کا

بڑی کہانی سناتے ہو ریحان کے جیسے تم جیسا کہاں کوئی انسان تھا
ہے ہمیں سب معلوم تمھارے چوپے کردار کا

لگے ہو سنانے یہ داستان جو وہ بھی کیا انداز تھا
لگا ہمیں کے جیسے سارا قصور تھا صرف اسی اک ذات کا

اور کر دو بس یہ یہ وہ وہ کر کے حال سنانے کا
کے تنگ آ گئے ہیں ہم کے پیالہ لبریز ہوا اپنی بھی برداشت کا

تھا جو بھی وہ ہے جو بھی یہ ; کر کے جتن دیکھا ہر بات کا
اب کیا کہتے ہو یار کیا چاہتے ہو ; کے کیا فایدہ اس بات کا

حقیقت سے بھاگ کر جو بنے رہے اک پھول گلاب کا
یہ بڑے دھوکے میں جو رکھا بڑا ہی جو ٹوٹنے کا خیال تھا

ہے امید کی پھر سے ; نہ کرنا اعتبار اس ہوا کا
کے ہمیں تو خیال ہے پھر اس بہتے ذرا – ا -اشکبار کا

نہ بنو اتنے بھی بھولے سے ; کیا حاصل اس نقاب کا
کے جواب دہ ہونا ہے بس تمہیں اپنے ہی رب کی ذات کا

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s


%d bloggers like this: